جامعہ کراچی میں’ خواتین سائنسدانوں کے دن‘ کے موقع پر تقریب کا انعقاد

جامعہ کراچی میں واقع آئی سی سی بی ایس میں خواتین سائنسدانوں کے عالمی دن کی تقریب سے ڈاکٹرمحمد اقبال چوہدری خطاب کررہے ہیں۔ فوٹو: بشکریہ آئی سی سی بی ایس

جامعہ کراچی میں واقع آئی سی سی بی ایس میں خواتین سائنسدانوں کے عالمی دن کی تقریب سے ڈاکٹرمحمد اقبال چوہدری خطاب کررہے ہیں۔ فوٹو: بشکریہ آئی سی سی بی ایس

 کراچی: سائنس سے وابستہ خواتین اور لڑکیوں کے عالمی دن کے موقع پر جامعہ کراچی کے بین الاقوامی مرکزبرائے کیمیا و حیاتیاتی علوم ( آئی سی سی بی ایس) میں ایک اہم تقریب کا انعقاد کیا گیا۔  

تقریب میں شرکا نے کہا کہ ملک میں دیرینہ  سماجی جبر نہ صرف خواتین کی  اپنی پیشرفت میں حائل ہے بلکہ خواتین کو ملکی ترقی میں کردار ادا کرنے سے بھی روکتا ہے۔ اس اہم دن کے مناسبت سے ’گلوبل وومن بریک فاسٹ‘ اور سائنس سے وابستہ خواتین کی خصوصی نشست سے ملک کی ممتاز کیمیادان ڈاکٹر بینا صدیقی، آسٹریلوی اسکالر پروفیسر جان ویب، پروفیسر جی اے میانہ اور پروفیسر ڈاکٹر میری گارسن سمیت دیگر خواتین اسکالروں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ اس دن کو منانے کا مقصد سائنس اور کیمیا میں خواتین کا بااختیار بنانا ہے۔

آئی سی سی بی ایس کے سربراہ پروفیسر اقبال چوہدری نے کہا اعلیٰ سماجی مناصب پر خواتین کے نہ ہونے کا رجحان باعثِ تشویش ہے۔  معاشرے کا سماجی جبر خواتین کے فروغ  میں حائل ہے جو انھیں قومی ترقی میں اپناکردار ادا کرنے سے روکتا ہے۔

ڈاکٹر اقبال نے کہا کہ تمام مسائل کے باوجود مردوں کے مقابلے میں خواتین زیادہ خواندہ ہیں۔ انھوں نے کہا سائنس سمیت ہر شعبہ حیات میں خواتین کو با اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مختلف خواتین نے کہا کہ خواتین کسی بھی شعبے مردوں سے پیچھے نہیں اور انہوں نے بڑی محنت سے اپنا نام بنایا ہے۔

ڈاکٹرسلیم الزماں صدیقی کی یاد میں مشاعرہ

بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس)، جامعہ کراچی کے زیراھتمام منگل کو سابق شیخ الجامعہ کراچی اور ممتاز شاعر پروفیسرڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی کی زیرصدارت معروف سائنسدان پروفیسر سلیم الزماں صدیقی کی یاد میں سالانہ محفلِ سخن بعنوان ”قلم برائے سائنس“ کا انعقاد ہوا جس میں  معروف دانشوراور شاعر پروفیسر سحر انصاری اس موقع پر مہمانِ خصوصی تھے۔

آئی سی سی بی ایس، جامعہ کراچی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے مشاعرے سے قبل افتتاحی کلمات ادا کیے جبکہ جعفر عسکری جعفر نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ مشاعرے میں شہر کے معروف شعرا و شاعرات بشمول جناب انورشعور، جناب فراست رضوی، محترمہ نسیم نازش، جناب رونق حیات، جناب خالد معین، محترمہ حجاب عبّاسی، محترمہ تسنیم عابدی، جناب حیدر حسنین جلیسی، محترمہ عنبرین حسیب عنبر، جناب توقیر تقی، جناب کاشف حسین غائر، جناب دلاور علی آذر، جناب نعمان جعفری، جناب ظہیر عباس و دیگر نے اپنے کلام پیش کیے۔

پروفیسرڈاکٹر پیرزادہ قاسم نے پروفیسر سلیم الزماں صدیقی کی شخصیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پروفیسر سلیم الزماں صدیقی ایک ہمہ گیر شخصیت کے حامل تھے وہ نہ صرف ایک معتبر سائنسدان تھے بلکہ باکمال مصور، شاعر، نقاد، فلسفی اور سائنسی مفکر بھی تھے۔

پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے کہا دنیا میں مہذب اقوام ہی شعر و ادب کو فوقیت دیتی ہیں۔ پاکستان میں بین الاقوامی مرکز سب سے جدا سائنسی ادارہ ہے جہاں طالب علموں کو طبعی علوم کے علاوہ سماجی علوم سے بھی واقفیت حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔ انھوں نے نوآموز سائنسدانوں پر زور دیا کہ وہ پروفیسر سلیم الزماں صدیقی کی علمی راہ کو اختیار کریں کہ وہ کئی علوم میں اپنی مثال آپ تھے۔ پروفیسر سلیم الزماں صدیقی نے ہی جامعہ کراچی میں معروف تحقیقی ادارے ایچ ای جے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف کیمسٹری کی بنیاد رکھی تھی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر سحرانصاری نے کہا کہ ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی کو نابغہ روزگار شخصیت قرار دیا۔

واضح رہے کہ ڈاکٹرسلیم الزماں غالب اور میر کے بڑے نقاد بھی تھے۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ ’ادب، سائنس اور مصوری میں حسن قدرمشترک ہے۔‘



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں