گرفتاری کا خوف ، مفتاح اسماعیل نے ضمانت قبل از گرفتاری کےلئے درخواست دائر کر دی

اسلام آباد : ایل این جی کیس میں گرفتاری کے خوف سے سابق وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے ہائی کورٹ میں ضمانت قبل از گرفتاری کےلئے درخواست  دائر کر دی، جس میں استدعا کی گئی کہ عدالت ایل این جی کوٹہ کیس کا تفصیلی فیصلہ آنے تک نیب کو گرفتاری سے روکے۔

تفصیلات کے مطابق ایل این جی سکینڈل میں گرفتاری کے خوف کے باعث سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے ضمانت قبل از گرفتاری کے لئے اسلام آباد ہائی کورٹ  میں درخواست دائر کردی۔

دائر  درخواست میں چیئرمین نیب اور  وفاقی حکومت کو فریق بنایا گیا ہے ۔

درخواست میں موقف اختیار کیاگیاکہ این جی کوٹہ کیس میں میرا کوئی عمل دخل نہیں، نیب سیاسی اور  ٹارگٹڈ انتقام کا نشانہ بنا رہا ہے، درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت ضمانت قبل از گرفتاری منظور کرے اور ایل این جی کوٹہ کیس کا تفصیلی فیصلہ آنے تک نیب کو گرفتاری سے روکے۔

خیال رہے چند روز قبل سندھ ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیرمفتاح اسماعیل کی 10 دن کیلئے حفاظتی ضمانت منظور کی تھی۔

مزید پڑھیں : سندھ ہائی کورٹ نے مفتاح اسماعیل کی 10دن کیلئے حفاظتی ضمانت منظورکرلی

خیال رہے سابق وفاقی وزیرمفتاح اسماعیل کےخلاف ایل این جی کیس میں نیب انکوائری جاری ہے جبکہ وزارت داخلہ نے نیب کی سفارش پر سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا نام ای سی ایل پر ڈال دیا تھا۔

یاد رہے 12 جنوری کو ایل این جی اسکینڈل کی تحقیقات کے سلسلے میں سابق وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل قومی احتساب بیورو (نیب) کے سامنے پیش ہوئے تھے، جن سے ڈیڑھ گھنٹے پوچھ گچھ کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں : مفتاح اسماعیل کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا

واضح رہے اکتوبر 2018 میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے ایل این جی اسکینڈل کیس دوبارہ کھولنے اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ نیب کی جانب سے وزارت پٹرولیم کو خط لکھ گیا تھا، جس میں متعلقہ وزارتوں سے ریکارڈ طلب کیا تھا۔

جون 2018 میں من پسند کمپنی کو ایل این جی ٹرمینل کا ٹھیکہ دینے کے الزام پر چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے سابق وزرائے اعظم و دیگر کے خلاف تحقیقات کی منظوری دی تھی، ترجمان نیب کے مطابق ملزمان پر من پسند کمپنی کو ایل این جی ٹرمینل کا 15 سال کے لئے ٹھیکے دینے، مبینہ طور پر ملکی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔

Comments

comments

(function(d, s, id) {
var js, fjs = d.getElementsByTagName(s)[0];
if (d.getElementById(id)) return;
js = d.createElement(s); js.id = id;
js.src = “http://connect.facebook.net/en_US/sdk.js#xfbml=1&version=v2.5”;
fjs.parentNode.insertBefore(js, fjs);
}(document, ‘script’, ‘facebook-jssdk’));(function(d, s, id) {
var js, fjs = d.getElementsByTagName(s)[0];
if (d.getElementById(id)) return;
js = d.createElement(s); js.id = id;
js.src = “http://connect.facebook.net/en_US/sdk.js#xfbml=1&appId=1763457670639747&version=v2.3”;
fjs.parentNode.insertBefore(js, fjs);
}(document, ‘script’, ‘facebook-jssdk’));

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں