نیند کا عالمی دن –

کیا آپ جانتے ہیں ہم اپنی زندگی میں اپنی بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ اسی وقت کر سکتے ہیں جب ہم رات میں پرسکون نیند سوتے ہوں اور نیند کی کمی کا شکار نہ ہوں؟

پرسکون نیند کی اسی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے ہر سال کی طرح آج یعنی مارچ کے تیسرے جمعے کو نیند کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نیند پوری نہ ہونے سے سب سے پہلا اثر آپ کی جسمانی توانائی اور دماغی کارکردگی پر پڑتا ہے۔ نیند کی کمی سے آپ سارا دن تھکن اور سستی کا شکا رہیں گے۔ آپ اپنے کام ٹھیک طرح سے انجام نہیں دے سکیں گے، نہ ہی نئے تخلقیی خیالات سوچ سکیں گے۔

یہی نہیں نیند کی کمی آپ کو بدمزاج اور چڑچڑا بھی بنا سکتی ہے۔ طویل عرصے تک نیند کی کمی کا شکار رہنے والے افراد موٹاپے، ڈپریشن، ذیابیطس، ذہنی دباؤ اور امراض قلب کا شکار ہوجاتے ہیں۔

آج ہم آپ کو ان وجوہات سے آگاہ کرنے جارہے ہیں جو آپ کی پرسکون نیند کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔

ٹی وی اور موبائل کا استعمال

آج کے اس ترقی یافتہ دور میں ہر شخص باخبر رہنا پسند رہتا ہے۔ ٹی وی، اسمارٹ فون، کمپیوٹر کے ذریعہ ہم دنیا کے ہر کونے کی خبر جان سکتے ہیں۔ لیکن دراصل یہی چیز ہماری نیند کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔

ٹی وی اور فون کی روشنی دماغ کو متحرک رکھتی ہے اور دماغ دن کے مطابق اپنے تمام افعال سرانجام دیتا ہے۔ اندھیرے میں ہمارے دماغ میں ایک ہارمون میلاٹونین متحرک ہوجاتا ہے جو نیند لانے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ اگر ہم سونے سے ایک گھنٹہ پہلے ٹی وی یا موبائل فون بند کردیں تو ہم پرسکون نیند سو سکتے ہیں۔

رات میں مرغن غذائیں کھانا

رات 8 بجے کے بعد مرغن، مصالحہ دار اور لمبا چوڑا کھانا کھانا بھی نیند نہ آنے کا سبب بنتا ہے۔ ڈاکٹرز کا مشورہ ہے کہ دن کا پہلا کھانا (ناشتہ) بھرپور، دوپہر کا ہلکا اور رات کا برائے نام ہونا چاہیئے۔

رات میں ہلکا پھلکا کھانا جسم کے اندرونی نظام کو بھی آرام دیتا ہے اور آپ کا جسم حالت سکون میں چلا جاتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق اگر رات میں آپ کو بھوک لگ رہی ہے تو ایک سیب، یا ایک گلاس نیم گرم دودھ بہترین غذا ہے۔

کافی سے گریز

شام کے بعد کافی سے گریز کریں۔ کافی میں موجود کیفین دماغ کو جگا دیتی ہے اور اس کا اثر 12 گھنٹے تک رہتا ہے۔ یہ صرف دماغ کو ہی نہیں جگاتی بلکہ نیند کے دوران بھی خلل پیدا کرتی ہے۔

غلط وقت پر قیلولہ

قیلولہ صحت کے لیے فائدہ مند ہے لیکن یہ مختصر اور صحیح وقت پر ہونا چاہیئے۔ اگر آپ دوپہر ڈھلنے کے بعد سوئیں گے یا دوپہر میں لمبے وقت کے لیے سوگئے تو یہ آپ کی رات کی نیند پر اثر انداز ہوگا۔

شام میں اگر تھکاوٹ محسوس ہو رہی ہے تو تیراکی یا جم جانا نیند بھگانے کا بہترین حل ہے۔

نیند نہ آنے کی صورت میں کیا کریں؟

اگر آپ کو نیند نہیں آرہی تو اپنے کمرے سے باہر بالکونی یا کسی دوسرے کمرے میں مدھم روشنی جلا کر بیٹھ جائیں۔ نیند لانے کا سب سے بہترین نسخہ کوئی کتاب پڑھنا یا ہلکی موسیقی سننا ہے۔

اس کے لیے روحانی طریقہ کار سے بھی مدد لی جاسکتی ہے۔ عبادت روحانی طور پر پرسکون کرتی ہے اور جسم اور دماغ کو آرام پہنچاتی ہے۔

اگر آپ رات میں بے سکون نیند سوئے ہیں اور اگلی صبح تھکاوٹ اور نیند محسوس کر رہے ہیں تو ٹھنڈے پانی سے غسل کریں، مراقبہ کریں، ہلکی سی چہل قدمی کریں اور ایک بھرپور ناشتہ کریں۔ یہ تمام کام آپ کو پورا دن چاک و چوبند رکھیں گے۔

Comments

comments

(function(d, s, id) {
var js, fjs = d.getElementsByTagName(s)[0];
if (d.getElementById(id)) return;
js = d.createElement(s); js.id = id;
js.src = “http://connect.facebook.net/en_US/sdk.js#xfbml=1&version=v2.5”;
fjs.parentNode.insertBefore(js, fjs);
}(document, ‘script’, ‘facebook-jssdk’));(function(d, s, id) {
var js, fjs = d.getElementsByTagName(s)[0];
if (d.getElementById(id)) return;
js = d.createElement(s); js.id = id;
js.src = “http://connect.facebook.net/en_US/sdk.js#xfbml=1&appId=1763457670639747&version=v2.3”;
fjs.parentNode.insertBefore(js, fjs);
}(document, ‘script’, ‘facebook-jssdk’));

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں