نقیب قتل کیس:راؤ انوار پھر بغیر ہتھکڑی عدالت میں پیش سابق ایس ایس پی ملیر کے پسینے چھوٹ گئے، بڑا شکوہ کر دیا

کراچی(اے این این ) انسداد دہشت گردی کی عدالت میں نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت کے دوران سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار اور دیگر ملزمان کو پیش کیا گیا، جہاں مقدمے میں نامزد ملزم ڈی ایس پی قمر احمد نے ضمانت کی درخواست دائر کردی۔ہفتہ کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مقدمے کی سماعت بند کمرے میں کی۔اس موقع پر ملزم راؤ انوار کو بغیر ہتھکڑی عدالت میں پیش کیا گیا ۔عدالت نے ڈی ایس پی قمر احمد کی درخواست ضمانتپر بحث کے لیے نوٹس جاری کردیئے، تاہم سرکاری وکلا بیرو مل اور نواز کریم نے

نوٹس وصول کرنے سے انکار کردیا۔جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ حیرت ہے سرکاری وکلا نوٹس بھی وصول نہیں کررہے۔عدالت کا کہنا تھا کہ ہائیکورٹ کو لکھا تھا کہ کیس بھیج رہے ہیں تو عملہ اور سرکاری وکیل بھی بھیجیں۔سماعت کے بعد عدالت نیپیش کردہ سی ڈی کی کاپیاں کروا کر پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے مقدمے کی سماعت 28 مئی تک کے لیے ملتوی کردی۔سماعت کے دوران پولیس نے مفرور ملزمان شعیب شوٹر، امان اللہ مروت اور دیگر کی عدم گرفتاری سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کردی۔پولیس نے عدالت کو بتایا کہ تاحال مفرور ملزمان کاسراغ نہیں لگایا جاسکا، ملزمان کو گرفتار کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔سماعت کے دوران راؤ انوار کو جیل میں بی کلاس کی سہولت فراہم کرنے سے متعلق درخواست پر وکلا نے دلائل دیئے۔جیل حکام نے راؤ انوار کو اورنج رنگ کی جیکٹ سے استثنا دے دیا اور سابق ایس ایس پی کو ہتھکڑی لگائے بغیر سادہ کپڑوں میں عدالت لایا گیا۔واضح رہے کہ زیر سماعت مقدمات کے ملزمان کو اورنج رنگ کی جیکٹ پہنانا ضروری ہے اور عدالتی ریمانڈ پر لائے گئے ہر ملزم کو اورنج رنگ کی جیکٹ پہنائی جاتی ہے۔جبکہ کرپشنالزام میں گرفتار کئی اعلی پولیس افسران کو بھی اورنج جیکٹ پہنا کر عدالت لایا جاتا ہے۔تاہم ڈی ایس پی قمر احمد سمیت نقیب اللہ قتل کیس کے باقی تمام ملزمان کو اورنج رنگ کی جیکٹ پہنائی گئی ہے۔واضح رہے کہ مذکورہ کیس کی 14 مئی کو ہونے والی گذشتہ سماعت پر عدالت میں نقیب اللہ قتل کیس کا نامزد گواہ اپنے بیان سے منحرف ہوگیا تھا۔دوسری جانب عدالت نے ملزمان پر 19 مئی کو ہونے والی آئندہ سماعت پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔واضح رہے کہ رواں برس 13 جنوری کو ملیر کے علاقے شاہ لطیف ٹان میں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے ایک نوجوان نقیب اللہ محسود کو دیگر 3 افراد کے ہمراہ دہشت گرد قرار دے کر مقابلے میں مار دیا تھا۔بعدازاں 27 سالہ نوجوان نقیب محسود کے سوشل میڈیا اکانٹ پر اس کی تصاویر اور فنکارانہ مصروفیات کے باعث سوشل میڈیا پر خوب لے دے ہوئی اور پاکستانی میڈیا نے بھی اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زردارینے اس معاملے پر آواز اٹھائی اور وزیر داخلہ سندھ کو انکوائری کا حکم دیا۔تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے ابتدائی رپورٹ میں راؤ انوار کو معطل کرنے کی سفارش کے بعد انہیں عہدے سے ہٹا کر نام ای سی ایل میں شامل کردیا گیا، جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی اس معاملے کا ازخود نوٹس لیا تھا۔بعدازاں 20 مارچ کو راؤ انوار سپریم کورٹ میں پیش ہوئے، جہاں چیف جسٹس ثاقب نثار کے حکم پر عدالت عظمی کے احاطے سے راؤ انوار کو گرفتار کرکے کراچی پہنچا دیا گیا تھا،جہاں انسداد دہشت گردی عدالت میں ان کے خلاف نقیب قتل کیس کی سماعت جاری ہے۔دریں اثناء نقیب اللہ قتل کیس میں نامزد سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کے کمرہ عدالت میں پسینے چھوٹ گئے اور سوال پوچھنے پر انہوں نے ایئر کنڈیشن ٹھیک کام نہ کرنے کا شکوہ کرڈالا۔ہفتہ کو کراچی کی انسداد دہشتگردی کی عدالت میں نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت ہوئی، پولیس نے سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار اور دیگر ملزمان کو عدالت میں پیش کیا،تفتیشی افسرنے سی سی ٹی وی فوٹیج پر مشتمل سی ڈی اور دیگر شواہد عدالت کے روبرو پیش کردیئے۔سماعت کے دوران راؤ انوار اپنے دیگر پیٹی بھائیوں سے جہاں گپ شپ کرتے رہے وہیں انہوں نے شکوہ بھی کرڈالا کہ عدالت کا اے سی ٹھیک کام نہیں کرہا، انہیں پسینہ آرہا ہے۔دوسری جانب انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیشی کے دوران جیل حکام کی راؤ انوار پر خصوصی کرم نوازیاں بھی جاری رہیں، عدالتی ریمانڈ پر لائے گئےہر ملزم کو نارنجی رنگ کی جیکٹ پہنائی جاتی ہے لیکن جیل حکام نے راؤ انوار کو نارنجی جیکٹ سے خود ہی استثنی دیئے رکھا۔سماعت کے بعد میڈیا سے غیر رسمی بات کرتے ہوئے جب ایک صحافی نے پوچھا کہ راؤ انوار صاحب سنا ہے عدالت میں گرمی زیادہ ہے لیکن آپ تو ہشاش بشاش لگ رہے ہیں، جس پر راؤ انوار نے کہا کہ نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ ایک اور صحافی نے سابق ایس ایس پی سے پوچھا کہ کمرہ عدالت میں ہوا کیا ہے آپ تو بڑے مسکراتے ہوئے نکلے ہیں، جس پر راؤ انوار نے کہا کہ عدالت میں کیا ہوا وہ میرے وکیل آپ کو بتا دیں گے، میرے وکیل آپ کو بی کلاس کی درخواست اور دیگر معاملات پر بتائیں گے۔



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں