عام آدمی کیلیے اپنی چھت کا حصول مشکل ہو گیا

ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں غیرملکی سرمایہ کاری 25فیصد اور ٹرانزیکشنز 75 فیصد گھٹ گئیں۔ فوٹو:فائل

ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں غیرملکی سرمایہ کاری 25فیصد اور ٹرانزیکشنز 75 فیصد گھٹ گئیں۔ فوٹو:فائل

کراچی: ایف بی آر کی جانب سے جائیداد کی ایف بی آر ویلیومیں حالیہ اضافے کے بعد عام آدمی کے لیے اپنی چھت کاحصول مشکل جبکہ نئی صنعت کے قیام کی لاگت دگنی ہوگئی ہے۔

نئی ایف بی آر ویلیوایشن کے نتیجے میں گھروں اورکراچی کے 3انڈسٹریل زونزمیں نئی صنعتوں کی لاگت میں 100فیصد اضافے کے باعث قانونی ملکیت (سیلزڈیڈ) کے بجائے پاور آف اٹارنی پر رجسٹری کا رجحان بڑھنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

جائیدادوں کی نئی ایف بی آر ویلیوایشن کی وجہ سے حکومت کوبھی رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو مکمل دستاویزی بنانے اور اس شعبے سے ریونیو وصولیوں کے حجم میں اضافے کے حوالے سے اہداف کاحصول بھی ناممکن ہوگیا ہے کیونکہ خریدار قانونی ملکیت (سیلز ڈیڈ) کے بجائے پاور آف اٹارنی پر جائیدادوں کی ٹرانزیکشن کو ترجیح دے رہے ہیں۔

پاکستان ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ فورم کے صدر شعبان الہی نے ایکسپریس کو بتایا کہ سیلز ڈیڈ کی مجموعی طور پر15فیصد ٹیکسوں کی لاگت کی وجہ سے جائیدادوں کے خریدار 2فیصد لاگت پر پاور آف اٹارنی کے ذریعے ٹرانزیکشن کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں مگر پاور آف اٹارنی پر ٹرانزیکشنزکا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل قریب میں خریداراور فروخت کنندگان کے درمیان قانونی تنازعات کا باعث بن سکتا ہے اور اس قانونی جنگ میں خریدار غیر محفوظ رہے گا۔

انھوں نے بتایاکہ جولائی 2016 میں حکومت کی جانب سے 21 شہروں میں ایف بی آر ویلیو متعارف کرائے جانے، ریئل اسٹیٹ سیکٹرمیں سرمایہ کاری سے متعلق غیرواضح پالیسی اور منفی تاثر کے ساتھ مختلف حکومتی اداروں کی جانب سے پوچھ گچھ کے سبب اوورسیز پاکستانیوں کی اس شعبے میں سرمایہ کاری 25فیصد گھٹ گئی ہے جو اس سے قبل سالانہ 7تا8ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں کرتے تھے۔

شعبان الہی نے بتایا کہ سال2016 میں ایف بی آر ویلیو متعارف کراتے ہوئے حکومت نے ٹیکسوں کی شرحوں میں کمی کا وعدہ کیا تھا جو تاحال پورا نہیں کیا جاسکا۔ انھوں نے کہا کہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر ایف بی آر کی نئی ویلیوایشن کا خیرمقدم کرتی ہے کیونکہ یہ قدم اس شعبے کو دستاویزی بنانے کے لیے اٹھایاگیا ہے لیکن اس کے مطلوبہ نتائج اُسی صورت میں حاصل ہوسکتے ہیں کہ جب اس نئی ویلیوایشن میں اناملیز کو دور کیا جائے اور ویلیوایشن کو ملک کے274 شہروں کی جائیدادوں تک وسیع کیاجائے۔

انھوں نے بتایا کہ رواں سال ریئل اسٹیٹ سیکٹرکی ٹرانزیکشنز 75 فیصد گھٹ گئی ہیں جس کی وجہ سے اس شعبے سے وصول ہونے والے ریونیو کا حجم بھی 66فیصد کم ہوگیا ہے۔

ایف بی آر کی نئی ویلیوایشن میں اناملیز کی نشاندہی کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ کورنگی، پورٹ قاسم صنعتی علاقہ اور سندھ میمن گوٹھ کراچی کی نئی ایف بی آرویلیوایشن مارکیٹ ویلیو سے دگنی سے زائد کردی گئی ہے جسے درست کرنے کی ضرورت ہے۔

 



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں