بینظیر یوتھ ڈیولپمنٹ پروگرام مطلوبہ نتائج نہ دے سکا

فروری 2017 سے تاحال کوئی چیئرمین مقرر نہیں کیا گیا۔ فوٹو: فائل

فروری 2017 سے تاحال کوئی چیئرمین مقرر نہیں کیا گیا۔ فوٹو: فائل

کراچی: حکومت سندھ کے متعلقہ افسران کی نااہلی اور مالی و انتظامی بے ضابطگیوں کے باعث بیروزگار نوجوانوں کو ٹیکنیکل اور ووکیشنل تربیت فراہم کرنے کے لیے شروع کردہ منصوبہ بینظیر بھٹو شہید یوتھ ڈیولپمنٹ پروگرام اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود مطلوبہ نتائج نہ دے سکا۔

محکمہ اینٹی کرپشن سندھ نے بینظیر بھٹو شہید یوتھ ڈیولپمنٹ پروگرام میں کرپشن کی شکایات پر تحقیقات شروع کردی ہے، انکوائری افسر اعجاز علی قائم خانی نے ایکسپریس کو بتایا کہ وہ وہ بینظیر بھٹو شہید یوتھ ڈیولپمنٹ پروگرام کے فیز 3 ، فیز 4 اور این سی ایچ ڈی کے تربیتی پروگراموں میں نوجوانوں کو وظیفے کی رقوم کی تقسیم میں کرپشن کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وظیفے کی رقوم کی تقسیم میں خورد برد ہوئی ہے، تاہم اس سلسلے میں تربیتی پروگراموں میں شریک ہونے والے نوجوانوں سے مزید معلومات حاصل کی جارہی ہے، اس سلسلے میں جب مذکورہ پروگرام کے صوبائی کوآرڈینٹر نجم الدین سہتو سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے صرف یہ بتایا کہ مذکورہ پروگرام کے تحت اس وقت 11 واں فیز جاری ہے۔

انھوں نے مزید تفصیلات کے لیے ڈپٹی کوآرڈینیٹر خان محمد تنیو سے رابطہ کرنے کا مشورہ دیا جو بیک وقت پروگرام افسر پروکیورمنٹ کا چارج بھی رکھتے ہیں، تاہم خان محمد تنیو سے ان کے موبائل اور دفتر کے نمبرز پر کئی مرتبہ کال کرنے اور پیغام چھوڑنے کے باوجود رابطہ نہ ہوسکا۔ مذکورہ پروگرام کے لیے تشکیل کردہ بورڈ حکومت سندھ کے محکمہ یونیورسٹیز اور تعلیمی بورڈز کے ماتحت کردیا گیا ہے۔

ایکسپریس کی جانب سے اس سلسلے میں جب محکمہ یونیورسٹیز و تعلیمی بورڈز کے سیکریٹری محمد ریاض الدین سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے تسلیم کیا کہ مختلف وجوہات کی بنا پر بینظیر بھٹو شہید یوتھ ڈیولپمنٹ پروگرام سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے ، ان میں ایک وجہ خود نوجوانوں کا اس پروگرام کو غیر سنجیدہ لینا اور صرف وظیفے کی رقم میں دلچسپی رکھنا تھی، جبکہ دوسری وجہ تربیت کے لیے خدمات فراہم کرنے والے اداروں بالخصوص نجی اداروں کی جانب سے معاوضہ لینے کے باوجود باقاعدگی سے تربیت کے انتظامات نہ کرنا تھی، لیکن حکومت نے ایک اعلیٰ مقصد کے لیے نیک نیتی کے ساتھ یہ پروگرام شروع کیا تھا جسے سراہا جانا چاہیے۔

اینٹی کرپشن کی تحقیقات سے متعلق سوال پر انھوں نے کہا کہ یہ تحقیقات 2018 سے جاری ہے، وظیفے کی رقم کی تقسیم کے کچھ معاملات ضرور ہوئے تھے مگر بعد ازاں وہ معاملہ حل بھی ہوچکا تھا لیکن معلوم نہیں اینٹی کرپشن ابھی تک اس معاملے کی تحقیقات کو جاری رکھی ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ یہ پروگرام پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے 2008 میں اقتدار میں آنے کے بعد وفاقی سطح پر شروع کیا تھا، 2013 کے انتخابات میں وفاق میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت بننے کے بعد پیپلز پارٹی نے اس پروگرام کو اسی نام سے صوبائی سطح پر جاری رکھنے کیلیے اپریل 2013 میں سندھ اسمبلی سے ایک بل منظور کرایا جس کے تحت اپریل 2014 میں بینظیر بھٹو شہید ہیومن ریسورس، ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ بورڈ قائم کیا گیا اور یوتھ ڈیولپمنٹ پروگرام کو مذکورہ بورڈ کے ماتحت کردیا گیا۔

ابتدائی طور پر ریاض شیخ کو 3 سال کے لیے بورڈ کا چیئرمین مقرر کیا گیا لیکن فروری 2017 میں ریاض شیخ کی مدت ملازمت ختم ہونے کے بعد مذکورہ بورڈ کی تشکیل ادھوری رہ گئی اور حکومت سندھ نے تاحال کوئی چیئرمین مقرر نہیں کیا۔

اس پروگرام کے تحت بے روزگاروں کو نہ صرف مختلف شعبوں میں تربیت فراہم کی جارہی ہے بلکہ اس کے ساتھ انھیں ماہانہ 3 سے 6 ہزار روپے فی نوجوان وظیفہ بھی دیا جاتا ہے، کئی جگہوں پر تربیت حاصل کرنے والے نوجوانوں نے تربیت حاصل کرنے میں دلچسپی نہیں لی کیونکہ انھیں تربیت سے زیادہ وظیفہ وصول کرنے میں دلچسپی تھی، جبکہ بیشتر جگہوں پر نوجوانوں کو تربیت دینے کے لیے منتخب کردہ نجی اور سرکاری اداروں نے بھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا اور حکومت سے باقاعدہ معاوضہ وصول کرنے کے باوجود نوجوانوں کو تربیت فراہم نہیں کی، ان ان تمام تر مسائل کے باوجود یہ پروگرام جاری ہے۔

پروگرام چلانے والے افسران کا اس سے کوئی سروکار نہیں ہے کہ بھاری رقم خرچ ہونے کے باوجود مذکورہ پروگرام سے نوجوانوں کو فائدہ بھی ہو رہا ہے کہ نہیں، منتخب نوجوان کلاسز لے رہے ہیں یا نہیں، یا معاوضوں کے عوض جن نجی و سرکاری اداروں کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں وہ باقاعدگی سے نوجوانوں کو تربیت فراہم کر بھی رہے ہیں یا نہیں، مذکورہ پروگرام چلانے والے افسران کی اس سے کوئی دلچسپی نہیں

 



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں